ایوب Chapter 13

انگریزی میں

Read ایوب Chapter 13 Online

Read ایوب Chapter 13 online from the Holy Bible. This chapter is part of the Book of ایوب in the Old Testament. Browse every verse with easy chapter navigation, continue to the next chapter, or explore the complete Book of ایوب and the Holy Bible online.

Choose a Chapter

ایوب 13

باب 13

1. میری آنکھ نے تو یہ سب کچھ دیکھا ہے۔میرے کان نے یہ سُنا اور سمجھ بھی لیا ہے ۔

2. جو کچھ تم جانتے ہو اُسے میں بھی جانتا ہُوں ۔ میں تم سے کم نہیں ۔

3. میں تو قادِر مطلق سے گفتگو کرنا چاہتا ہُوں ۔ میری آرزُو ہے کہ خدا کے ساتھ بحث کُروں

4. لیکن تم لوگ تو جھوٹی باتوں کے گھڑنے والے ہو۔تم سب کے سب نکمے طبیب ہو۔

5. کاش تم بالکل خاموش ہوجاتے !یہی تمہاری عقلمندی ہوتی ۔

6. اب میری دلیل سُنو اور میرے منہ کے دعویٰ پر کان لگاؤ ۔

7. کیا تم خدا کے حق میں ناراستی سے باتیں کروگے اور اُسکے حق میں فریب سے بولو گے ؟

8. کیا تم اُسکی طرفداری کروگے ؟ کیا تم خدا کی طرف سے جھگڑو گے ؟

9. کیا یہ اچھا ہوگا کہ وہ تمہاری تفتیش کرے ؟کیا تم اُسے فریب دوگے جیسے آدمی کو ؟

10. وہ ضرور تمہیں ملامت کریگا ۔ اگر تم خُفیتہً طرفداری کرو ۔

11. کیا اُسکا جلال تمہیں ڈرانہ دیگا اور اُسکا رُعب تم پر چھا نہ جائیگا ۔

12. تمہاری معروف باتیں راکھ کی کہاوتیں ہیں ۔تمہاری فصیلیں مٹّی کی فصیلیں ہیں ۔

13. تم چُپ رہو۔مجھے چھوڑو تاکہ میں بول سکوں اور پھر مجھ پر جو بیتے سو بیتے ۔

14. میں اپنا ہی گوشت اپنے دانتوں سے کیوں چباؤں اور اپنی جان اپنی ہتھیلی پر کیوں رکھوں ؟

15. دیکھو وہ مجھے قتل کریگا ۔میں اِنتظار نہیں کرونگا بہرحال میں اپنی راہوں کی تائید اُسکے حُضُور کُرونگا ۔

16. یہ بھی میری نجات کا باعث ہوگا کیونکہ کوئی بے خدا اُسکے سامنے آنہیں سکتا ۔

17. میری تقریر کو غور سے سُنو اور میرا بیان تمہارے کانوں میں پڑے ۔

18. دیکھو میں نے اپنا دعویٰ دُرست کر لیا ہے ۔میں جانتا ہوں کہ میں صادق ہوں ۔

19. کون ہے جو میرے ساتھ جھگڑیگا ؟ کیونکہ پھر تو میں چُپ ہو کر اپنی جان دیدوُنگا ۔

20. فقط دوہی کام مجھ سے نہ کر ۔تب میں تجھ سے نہیں چھپونگا ۔

21. اپنا ہاتھ نجھ سے دُور ہٹا لے اور تیری ہیبت مجھے خوفزدہ نہ کرے ۔

22. تب تیرے بُلانے پر میں جواب دُونگا ۔یا میں بولُوں اور تو مجھے جواب دے ۔

23. میری بدکاریاں اور گناہ کو جان لُوں ۔

24. تو اپنا منہ کیوں چھپا تا ہے اور مجھے اپنادُشمن کیوں جانتا ہے؟

25. کیا تو اُڑتے پتے کو پریشان کریگا ؟ کیا تو سُوکھے ڈنٹھل کے پیچھے پڑیگا ؟

26. کیونکہ تو میرے خلاف تلخ باتیں لکھتا ہے اور میری جوانی کی بدکاریاں مجھ پر واپس لاتا ہے ۔

27. تو میرے پاؤں کاٹھ میں ٹھونکتااور میری سب راہوں کی نگرانی کرتا ہے ۔اور میرے پاؤں کے گر د خط کھینچتا ہے۔

28. اگرچہ میں سڑی ہُوئی چیز کی طرح ہُوں جو فنا ہوجاتی ہے۔ یا اُس کپڑے کی مانند ہوں جسے کیڑے نے کھا لیا ہو۔

About ایوب Chapter 13

Read ایوب Chapter 13 online from the Holy Bible. This chapter is part of the Book of ایوب in the Old Testament. Continue reading with the chapter navigation above or explore the complete book.

Book Information

Book: ایوب
Chapter: 13
Testament: Old Testament

How to Read this Chapter

Use the Previous and Next Chapter buttons to continue reading ایوب. You can also adjust the font size for comfortable reading and browse other books of the Bible using the navigation links.

https://www.youtube.com/watch?v=rzsT_Q3KLzE

More Resources

Continue Reading the Bible

Continue reading ایوب Chapter 13 and explore every book, chapter and verse of the Holy Bible. Use the navigation links above and below to move through the Scriptures with ease.

Frequently Asked Questions

What is ایوب Chapter 13?

ایوب Chapter 13 is part of the Book of ایوب in the Holy Bible.

Can I read this chapter online?

Yes. You can read the complete ایوب Chapter 13 online for free with easy chapter navigation.

More Chapters from ایوب

  1. ایوب Chapter 8
  2. ایوب Chapter 41
  3. ایوب Chapter 19
  4. ایوب Chapter 11
  5. ایوب Chapter 1
  6. ایوب Chapter 29
  7. ایوب Chapter 25

Explore More from پرانا عہدنامہ

  1. پیدایش Chapter 22
  2. 2 تواریخ Chapter 19
  3. احبار Chapter 1
  4. 2 تواریخ Chapter 10
  5. امثال Chapter 14
  6. پیدایش Chapter 6
  7. استثنا Chapter 6

Related Chapters & Readings

  1. زبور Chapter 134
  2. ایوب Chapter 12
  3. 2 سموئیل Chapter 10
  4. یسعیاہ Chapter 66
  5. یرمیاہ Chapter 36
  6. رومیوں Chapter 7
  7. مرقس Chapter 16
Share Your Love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *