ایوب Chapter 28

انگریزی میں

Read ایوب Chapter 28 Online

Read ایوب Chapter 28 online from the Holy Bible. This chapter is part of the Book of ایوب in the Old Testament. Browse every verse with easy chapter navigation, continue to the next chapter, or explore the complete Book of ایوب and the Holy Bible online.

Choose a Chapter

ایوب 28

باب 28

1. یقیناچاندی کی کان ہوتی ہے اور سونے کے لئے جگہ ہوتی ہے جہاں تایا جاتا ہے ۔

2. لوہا زمین سے نکالا جاتا ہے اور پیتل پتھر میں سے گلایا جاتا ہے ۔

3. اِنسان تاریکی کی تہ تک پہنچتا ہے اور ظُلمات اور موت کے سایہ کی اِنتہا تک پتھروں کی تلاش کرتا ہے ۔

4. آبادی سے دُور وہ سُرنگ لگاتا ہے۔آنے جانے والوں کے پاؤں سے بے خبر اور لوگوں سے دُور وہ لٹکتے اور جھولتے ہیں ۔

5. اور زمین ۔اُس سے خوراک پیدا ہوتی ہے اور اُسکے اندر گویا آگ سے انقلاب ہوتا رہتا ہے۔

6. اُسکے پتھروں میں نیلم ہے ۔اور اُس میں سونے کے ذرّے ہیں ۔

7. اُس راہ کو کوئی شکاری پرندہ نہیں جانتا نہ باز کی آنکھ نے اُسے دیکھا ہے

8. نہ متکبر جانور اُس پر چلے ہیں نہ نخوار ببر اُدھر سے گذرا ہے۔

9. وہ چقماق کی چٹان پر ہاتھ لگاتا ہے ۔وہ پہاڑوں کو جڑ سے اُلٹ دیتا ہے ۔

10. وہ چٹانوں میں سے نالیاں کاٹتا ہے۔ اُسکی آنکھ ہر بیش قیمت چیز کو دیکھ لیتی ہے

11. وہ ندیوں کو مُسدود کرتا ہے کہ وہ ٹپکتی بھی نہیں اور چھپی چیز کو وہ روشنی میں نکال لاتا ہے۔

12. لیکن حکمت کہاں ملیگی ؟ اورخرد کی جگہ کہاں ہے؟

13. نہ اِنسان اُسکی قدر جانتا ہے نہ وہ زندوں کی سر زمین میں ملتی ہے ۔

14. گہراؤ کہتا ہے وہ مجھ میں نہیں ہے ۔سمندر کہتا ہے وہ میرے پاس نہیں ۔

15. نہ وہ سونے کے بدلے مل سکتی ہے نہ چاندی اُسکی قیمت کے لئے تُلیگی ۔

16. نہ اوفیرؔ کا سونا اُسکا مول ہوسکتا ہے اور نہ قیمتی سُلیمانی پتھریا نیلم ۔

17. نہ سونا اور کانچ اُسکی برابری کرسکتے ہیں نہ چوکھے سونے کے زیور اُسکا بدل ٹھہر ینگے ۔

18. مونگے اور بِلّور کا نام بھی نہیں لیا جائیگا بلکہ حکمت کی قیمت مرجان سے بڑھکر ہے۔

19. نہ کوُش کا پکھراج اُسکے برابر ٹھہریگا نہ چوکھا سونا اُسکا مول ہوگا ۔

20. پھر حکمت کہاں سے آتی ہے ؟اور خرد کی جگہ کہاں ہے ؟

21. جس حال کہ وہ سب زندوں کی آنکھوں سے چھپی ہے اور ہوا کے پرندوں سے پوشیدہ رکھی گئی ہے۔

22. ہلاکت اور موت کہتی ہیں ہم نے اپنے کانوں سے اُسکی افواہ تو سُنی ہے۔

23. خدا اُسکی راہ کو جانتا ہے اور اُسکی جگہ سے واقف ہے۔

24. کیونکہ وہ زمین کی اِنتہا تک نظر کرتا ہے اور سارے آسمان کے نیچے دیکھتا ہے

25. تاکہ وہ ہوا کا وزن ٹھہرائے بلکہ وہ پانی کو پیمانہ سے ناپتا ہے ۔

26. جب اُس نے بارش کے لئے قانون اور رعد کی برق کے لئے راستہ ٹھہرایا

27. تب ہی اُس نے اُسے دیکھا اور اُسکا بیان کیا ۔اُس نے اُسے قائم کیا بلکہ اُسے ڈھونڈ نکالا

28. ا ور اُس نے اِنسان سے کہا دیکھ خداوند کا خوف ہی حکمت ہے اور بدی سے دُور رہنا خرد ہے۔

About ایوب Chapter 28

Read ایوب Chapter 28 online from the Holy Bible. This chapter is part of the Book of ایوب in the Old Testament. Continue reading with the chapter navigation above or explore the complete book.

Book Information

Book: ایوب
Chapter: 28
Testament: Old Testament

How to Read this Chapter

Use the Previous and Next Chapter buttons to continue reading ایوب. You can also adjust the font size for comfortable reading and browse other books of the Bible using the navigation links.

https://www.youtube.com/watch?v=rzsT_Q3KLzE

More Resources

Continue Reading the Bible

Continue reading ایوب Chapter 28 and explore every book, chapter and verse of the Holy Bible. Use the navigation links above and below to move through the Scriptures with ease.

Frequently Asked Questions

What is ایوب Chapter 28?

ایوب Chapter 28 is part of the Book of ایوب in the Holy Bible.

Can I read this chapter online?

Yes. You can read the complete ایوب Chapter 28 online for free with easy chapter navigation.

More Chapters from ایوب

  1. ایوب Chapter 19
  2. ایوب Chapter 41
  3. ایوب Chapter 11
  4. ایوب Chapter 1
  5. ایوب Chapter 39
  6. ایوب Chapter 9
  7. ایوب Chapter 8

Explore More from پرانا عہدنامہ

  1. پیدایش Chapter 42
  2. حزقی ایل Chapter 37
  3. ذکریاہ Chapter 3
  4. قضاۃ Chapter 10
  5. 2 سلاطین Chapter 12
  6. 1 سموئیل Chapter 29
  7. امثال Chapter 31

Related Chapters & Readings

  1. پیدایش Chapter 12
  2. واعظ Chapter 10
  3. 2 تواریخ Chapter 8
  4. 2 سلاطین Chapter 11
  5. یسعیاہ Chapter 43
  6. یوحنا Chapter 20
  7. متی Chapter 5
Share Your Love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *